ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / نفرت آمیز تقریر پر سپریم کورٹ سخت، کہا! ایسے لوگوں کے خلاف فوری کارروائی کریں

نفرت آمیز تقریر پر سپریم کورٹ سخت، کہا! ایسے لوگوں کے خلاف فوری کارروائی کریں

Sat, 22 Oct 2022 23:25:34    S.O. News Service

نئی دہلی 22/اکتوبر (ایس او نیوز) سپریم کورٹ نے نفرت آمیز خطاب کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی کرنے کی ہدایت دیتے ہوۓ کہا کہ نفرت کا ماحول پورے ملک پر حاوی ہو گیا ہے۔نفرت آمیز بیانات کے معاملے میں کسی کا مذہب دیکھے بغیر فوری کارروائی کی جائے۔ عدالت نے کہا کہ اس کے لئے افسران، عدالت کی ہدایت یا حکومت کی جانب سے احکامات ملنے کا انتظار نہ کر ے بلکه از خود نوٹس لے کر کارروائی شروع کریں۔ 

عدالت کی طرف سے احکامات اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوغطر یس کی جانب سے مودی حکومت کو اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور نفرت آمیز بیانات پر نصیحتیں کرنے کے چند روز بعد دی گئی ہے۔ عدالت نے مرکزی حکومت کے ساتھ ساتھ ریاستی حکومتوں کی بھی سخت سرزنش کی اور انہیں نفرت آمیز بیانات اور اشتعال انگیزی کو ہر قیمت پر روکنے کی واضح اور سخت ہدایات دیں۔ساتھ ہی کہا کہ اگر نفرت آمیز بیانات کا سلسلہ نہیں رکا تو ہمیں افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرنی پڑے گی۔

کورٹ کی واضح ہدایات
ریاستی حکومتیں کسی بھی نفرت آمیز بیان یا اشتعال انگیزی کیخلاف از خود نوٹس لے کر کارروائی کی شروعات کر یں۔ نفرت انگیز بیانات دینے والوں کے خلاف افسران حکومت یا عدالت کی ہدایت کا انتظار کئے بغیر اور شکایت کے اندراج کا انتظار کئے بغیر از خودکیس درج کریں۔ اشتعال انگیزی کرنے والے مقرر کیخلاف اس کا مذہب دیکھے بغیر کارروائی ضروری ہے اور اس لئے افسران کو سنجیدہ ہونا پڑے گا۔ اگر افسران یا حکومتیں ہدایات کے مطابق کارروائی نہیں کرتی ہیں تو ہم اسے توہین عدالت تسلیم کر یں گے اور پھر اپنی کارروائی کرینگے۔

عدالت نے کہا کہ نفرت انگیز بیانات کے سلسلے میں افسران شکایت درج ہونے کا بھی انتظار نہ کر یں۔کورٹ نے کہا کہ ان کی جانب سے اس معاملے میں کوئی کوتاہی نظر نہیں آنی چاہئے اگر ایسا ہوا تو ہم ان افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کر یں گے۔ سپریم کورٹ میں جسٹس کے ایم جوزیف اور رشی کیش راۓ کی بینچ نے شاہین عبداللہ کی داخل کردہ پیٹیشن پر سماعت کے دوران کہا کہ اکیسویں صدی میں یہ کیا ہورہا ہے؟ مذہب کے نام پر ہم کہاں پہنچ گئے ہیں؟ ہم نے ایشور کوکتنا چھوٹا بنا دیا ہے۔ ہندوستان کا آئین سائنسی سوچ ڈیولپ کرنے کی بات کرتا ہے لیکن یہاں تو سائنسی سوچ کے بالکل الٹ نفرت انگیزی کی ایسا فضا بنائی جارہی ہے کہ جس میں اقلیتوں کا دم گھٹ جاۓ اور عوام بھی کھل کر سانس نہ لے سکیں۔ بینچ نے کہا کہ عرضی گزار نے اپنی پیٹیشن میں بہت واضح اور حق بجانب موضوع کو اٹھایا ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ کس طرح سے حکومت اور انتظامیہ نفرت انگیزی پر قدغن لگانے میں ناکام ہورہے ہیں یا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ کوئی کارروائی کرنا ہی نہیں چاہتےہیں۔ پولیس اور انتظامیہ کے متعلقہ افسران نے بھی کوئی کارروائی نہ کرنے کامن بنالیا ہے۔ اس لئے ہمیں یہ انتہائی سخت ہدایات جاری کرنی پڑ رہی ہیں اور اب ہم دیکھیں گے کہ ہماری ہدایات پر کیا کارروائی ہوتی ہے۔اگر اشتعال انگیزی نہیں روکی گئی تو پھر ہم توہین عدالت کی کارروائی کر یں گے اور یہ کارروائی بہت سخت ہوگی۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں مسلم کمیونٹی کو نشانہ بنانے اور خوفزدہ کرنے کے بڑھتے واقعات کو روکنے کیلئے فوری مداخلت کی مانگ کرنے والی عرضی داخل کی گئی تھی جس پر سماعت کے دوران کورٹ نے مرکزی حکومت، اتراکھنڈ سرکار ، دہلی حکومت اور یو پی حکومت کو نوٹس بھی جاری کر دیا اور ان سے پوچھا کہ ان کے دائرہ عمل میں اشتعال انگیزی کے واقعات کے خلاف کیا کارروائی کی گئی، کورٹ کو بتایا جاۓ۔


Share: